تحریر: مولانا سید محمد فائز باقری، حوزہ علمیہ قم المقدسہ
حوزہ نیوز ایجنسی | دفاعِ مقدس، ایرانی قوم کی استقامت، مردانگی، دین سے وابستگی اور محبت کا وہ روشن نقش ہے جو ہمیشہ اس قوم کی سربلندی و سرفرازی کا تاج بن کر اقوامِ عالم کے سامنے اس کی عظمت و وقار کی داستان سناتا رہے گا۔
آٹھ سال تک صدام، خلیجی ریاستوں، امریکا اور دنیا کی دیگر طاقتوں کی پشت پناہی کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ لڑتا رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں ایران کے غیور، دیندار اور مؤمن جوان تھے؛ ایسے جیالے جو صرف اپنی ایمانی قوت اور اللہ تعالیٰ کی مدد پر توکل رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی سرزمین، اپنے وطن اور اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے دفاع میں آٹھ سال تک ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹایا اور استقامت و ایثار کی ایک لازوال تاریخ رقم کردی۔
قائدِ انقلاب اسلامی، آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای (رح) نے ہفتۂ دفاعِ مقدس کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں فرمایا تھا:
ملتِ ایران کا آٹھ سالہ دفاع، عظمتوں اور جلال و جمال کے جلووں کا ایک پرشکوہ سلسلہ ہے؛ ایسا سلسلہ جسے ایک قوم اپنی تاریخ کی جلوہ گاہ میں پیش کرسکتی ہے۔ تاہم شہید اور شہادت وہ درخشاں اور خیرہکن نگینہ ہے جو اس حیرت انگیز مجموعے میں دوسری تمام چیزوں سے زیادہ نمایاں اور گراں قدر دکھائی دیتا ہے۔
یہ نمایاں حیثیت ان لوگوں کے پرخلوص انسانی ایثار کا ثمرہ ہے جنہوں نے اپنی ذات اور اپنی مادی زندگی کے تمام پہلوؤں کو رضائے پروردگار کی خاطر نظرانداز کرتے ہوئے اپنا سب کچھ اس پرافتخار راستے میں نثار کردیا۔
شہیدوں کے اہلِ خانہ—باپ، مائیں، بیویاں، بچے اور دیگر اعزہ—سب اس روحانی افتخار و وقار میں شریک ہیں۔انسانی معاشروں کی ان عظیم ہستیوں پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور بندگانِ صالح کا سلام ہو۔» (۱)
ماخذ
(۱) ۳ مہر ۱۳۹۳ ہجری شمسی، مطابق 25 ستمبر 2014ء۔
https://farsi.khamenei.ir/message-content?id=27749










آپ کا تبصرہ